صحت اور طب

درد ختم کرنے والی دواؤں کے اثرات

بہت سے ایسے لوگ مشاہدے میں آئے ہیں جو وقت بے وقت درد ختم کرنے والی دواؤں کا بے خطر و خوف استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ درد ختم کرنے والی دواؤں کا کوئی سائڈ افیکٹ نہیں ہوتا۔ یا پھر پان کے کیبن اور کریانے کی دکان پر مل جانے والی یہ پین کلر (painkillers) درحقیقت کوئی نقصان نہیں رکھتیں۔

حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ایک سادہ پیناڈول (Paracetamol) سے لے کر کوئی بھی اینٹی ڈیپریزینٹ کا اپنا اپنا نقصان موجود ہے۔ میڈیکل سائنس میں اب تک ایسی کوئی دوا موجود نہیں ہے جو اپنا کوئی بھی سائڈ افیکٹ نہ رکھتی ہو۔

چانچہ آپ کی آٹھ آنے کی ایک ملنے والی پیناڈول کی گولی کے بھی اپنے نقصانات موجود ہیں۔ کسی بھی دوا کے سائڈ افیکٹ کے دو مراحل ہوتے ہیں۔ پہلا شارٹ ٹرم یعنی ابتدائی سائڈ افیکٹ (Short-term side effect)۔ اور دوسرا لانگ ٹرم یا دیرینہ سائڈ افیکٹ (Short-term side effect)۔ ابتدائی سائڈ افیکٹ میں مختلف دواؤں کے مختلف اثرات ہوتے ہیں۔ مثلاً پیناڈول کے عام چھوٹے موٹے اثرات یہ ہوسکتے ہیں کہ متلی اور الٹی آ جائے۔ جلد پر لال دھبے آسکتے ہیں۔ جگر میں خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔

اسی طرح ڈسپرین (Disprin) ، نیپروکزین (Naproxen) اور بروفین وغیرہ جیسی دوائیں پیٹ کو سخت خراب کرسکتی ہیں، اس کے علاوہ کچھ ذرائع کے مطابق دل کے دورے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ خصوصاً بیس سال سے کم عمر کے لوگوں کو ڈسپرین کا استعمال بالکل نہیں کرنا چاہیے، یہاں تک کہ ڈاکٹر خود لکھ کر دے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:   گردشِ دوراں کی چائے

یہ مضمون بھی پڑھیں: دماغی یکسوئی کیسے حاصل ہو؟

جبکہ کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ بات آگئی ہے کہ ڈسپرین لینے والوں کو دل کے دورے نہیں پڑتے۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے، لیکن اس کا تعلق عموم سے نہیں، بلکہ یہ ایک میڈیکل ڈاکٹر یا فارماسسٹ ہی بتا سکتا ہے کہ کس کو کتنی حد تک دل کے دوروں کے لیے یہ گولی فائدہ دے گی۔

افیمی دوائیں مثلاً مورفین (Morphine) اور کوڈین  (Codeine)  جو کہ کھانسی کے شربتوں (Hydrillin) میں پائی جاتی ہیں اور ہیروئن (Heroin) وغیرہ کے بھی مختلف سائڈ افیکٹس ہو سکتے ہیں۔ جس میں قبض کی شکایت، متلی اور الٹی، چکر اور بے ہوشی وغیرہ جیسی کیفیات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور اہم بات سمجھ لیجیے۔ یہ بات عام طور پر نظر اندازکی جاتی ہے، لیکن یہ ایک بڑا اہم پہلو ہے کہ درد ختم کرنے والی جتنی بھی دوائیں ہیں وہ زیادہ تر نان لوکلائزڈ (Non-localized) ہوتی ہیں۔ یعنی ان کا اثر جسم کے کسی خاص حصے پر نہیں بلکہ پورے جسم پر بالعموم ہوتا ہے۔

چنانچہ اگر آپ سر میں درد کی وجہ سے پیناڈول لیتے ہیں تو وہ سر کے ساتھ آپ کے بازو کا درد بھی ختم کردے گی۔ اب بظاہر تو یہ بڑی اچھی بات ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے بڑی خطرناک بات ایسی دواؤں میں اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ عام طور پر ہلکے پھلکے درد میں دوا لینے کے عادی لوگ کچھ وقت بعد سمجھنے لگتے ہیں کہ اب وہ اس دوا کے بغیر نہیں چل سکتے۔ (دوا کا عادی ہو جانا خود ایک بیماری سے کم نہیں۔) چنانچہ وہ تھوڑا سا بھی کام کرلیں تو فوراً جسم کی تھکن کے لیے بھی درد کی گولی لے لیتے ہیں۔ مستقل درد کی گولیاں کھانے سے آپ کے پورے جسم سے درد کا احساس تو ختم ہو جاتا ہے، لیکن ایک لمحے کو سوچیے کہ آپ کے جسم کی کسی ہڈی کے ساتھ کوئی سنجیدہ مسئلہ ہوا ہے، یا پیٹ میں السریشن وغیرہ کا کوئی مسئلہ ہے تو اس کا علم آپ کو کس طرح ہو سکے گا؟ جبکہ درد کا احساس تو آپ کو ہو نہیں سکتا۔ اب یہ ہو گا کہ بیماری بڑھتی جائے گی اور آپ کسی بھی علامت کی غیر موجودگی کی وجہ سے مختلف بیماریاں اپنے اندر پال رہے ہونگے جن کا آپ کو علم بھی نہیں ہوگا۔ اور یہی وہ اثر ہے جو کہ دیر پا اور بعض صورتوں میں مہلک بن جاتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:   انجینئرنگ اور میڈیکل ہی آخری آپشن نہیں ہے

ہمارے یہاں بہت سی مائیں اپنے سکون کی خاطر بچوں کو پیدائشی طور پر ابتدائی نشو و نما کے دنوں میں ہی ان افیمی دواؤں کا عادی بنا دیتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ کھانسی کا شربت پی کر بچہ آرام سے رہ سکتا ہے۔ حالانکہ یہ عمل انتہائی قبیح اور نقصان دہ ہے جو کہ بعد میں بچے کی صحت پر بہت برے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

آخر میں مشورہ یہی ہے کہ خود سے دوائیں دوائیں استعمال نہ کریں۔

ڈاکٹر سے مشورہ کرکے ہی دواؤں کو استعمال میں لائیں اور عقلمندی کا ثبوت دیں۔

تبصرہ شائع کریں

Open chat
Whatsapp Me
السلام علیکم۔
اگر آپ مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں تو مجھے واٹس ایپ بھی کر سکتے ہیں