صحت اور طب

حکمت، ہومیوپیتھی بمقابلہ ماڈرن سائنس

سائنس اور غیر سائنس کا ویسے تو کسی بھی طریقے سے کوئی تقابل نہیں۔ سمجھنے کی نیت سے پڑھیے تو بات واضح ہو جائے گی۔

میں نے آج ایک پوسٹ کی تھی کہ مسئلہ تو یہی ہے کہ ماڈرن میڈیسن کے علاوہ آپ کو ہر جگہ سو فیصد علاج کا دعوی ملے گا۔ لیکن میڈیکل سائنس میں الکحل والا یا اینٹی بیکٹیریل صابن بھی جراثیم کو صرف 99 فی صد مارنے کا دعوی کرتا ہے۔

نہیں آئی سمجھ؟

چلیں میں سمجھاتا ہوں۔

در اصل سائنس میں ٹریٹمنٹ کا اتنا ہی دعوی کیا جاتا ہے جتنی ٹریٹمنٹ ممکن ہے۔ اس سے زیادہ کا دعوی کیا ہی نہیں جاتا۔ سائنس آپ کو ہر سوال کا جواب نہیں دے سکتی نہ وہ اس چیز کا دعوی کرتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سائنس سے زیادہ درست جواب دینے والا کوئی طریقۂ علم موجود نہیں ہے۔ یہ انسانوں کی بساط کی آخری حد ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ سائنس سے اپنے من پسند جوابات طلب کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ آپ کو یہاں نہیں ملتے۔

بلڈ پریشر اور شوگر وغیرہ کا میڈیکل سائنس میں “سو فیصد” والا کوئی علاج موجود نہیں ہے۔ اور ماڈرن سائنس ایسا کوئی دعوی بھی نہیں کرتی۔ البتہ جو حکیم اور ہومیوپیتھ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سو فیصد علاج ہے، انکے پاس جانے والے مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہم نے ہاسپٹل میں آتے دیکھی ہے جو بالکل مرنے کے قریب پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ مسلسل بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر بڑھا رہنے کی وجہ سے سٹروک، نیفروپیتھی، آرگن فیلئیر، فالج اور دیگر امراض سے متاثر ہونے کے بعد جب مریض ایمرجنسی میں ہسپتال آتے ہیں اور اپنی کہانیاں بتاتے ہیں تو ہماری عقل، اور ماڈرن میڈیکل سائنس بھی اس حکمت اور ہومیوپیتھی وغیرہ کے آگے عجز کا اعلان کردیتی ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:   یہ پانچ باتیں 35 سال کی عمر سے پہلے جاننا ضروری ہیں

آپ اکثر کہتے ہیں کہ نیچروپیتھی، حکمت، آیورویدا اور ہومیوپیتھی برتر ہے۔ چلیں ایک تاریخی تجزیہ کرتے ہیں۔

تھوڑا سا ماڈرن سائنس کی تاریخ کو دیکھتے ہیں:

ویکسینیشن

ویکسینیشن ماڈرن سائنس کی تاریخ کا وہ باب ہے کہ اگر صرف اس کا مطالعہ کرلیا جائے تو دنیا کے باقی سارے علاج معالجے اسی ایک باب پر قربان کیے جاسکتے ہیں۔ آپ ذرا تاریخ اٹھائیں تو ایک ایک بیماری آپ کو ایسی ملے گی جس کی وجہ سے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں جانیں چلی جاتی تھیں۔

چکن پاکس، دپتھیریا، پولیو، پرٹیوسس سے لیکر ممپس اور ٹی بی تک بلا مبالغہ بیسیوں بیماریاں جو خطرناک حالت تک پہنچ کر انسانوں کی موت کا سبب بنتی تھیں وہ آج ایک ماضی کا قصہ ہیں۔ اور یہ تبدیلی آئے ہوئے کوئی بہت زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا۔ مطالعے کی نیت سے اگر آپ پڑھنا چاہیں تو یہ سارا معاملہ سن 1900 سے لے کر آج تک کی سوا سو سالہ تاریخ پڑھنے سے سمجھ میں آجائے گا۔ سمال پاکس جیسی خطرناک بیماری کا ماڈرن میڈیسنز کی ویکسینیشنز کی وجہ سے کرہ ارض سے صفایا ہوگیا۔ اور یہ سب کچھ ماڈرن میڈیسن کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔

اینٹی بائیوٹیکس

اینٹی بائیوٹیک ایک اور بڑا باب جس کا اعتراف کرنا بھی سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔

ٹی بی ایک جان لیوا بیماری ہے۔ اس کا ایک دور میں علاج صرف تازہ ہوا لینا اور آرام کرنا ہوا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی علاج اس کا موجود نہیں تھا۔ ماڈرن سائنس ہی کی مہربانی ہے کہ ٹی بی قابل علاج مرض ہے جو اینٹی بائیوٹک کامبنیشن تھیراپیز کے ذریعے ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ویکسینز بھی موجود ہیں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:   پیسہ، معیشت اور سروائول کی جنگ

یہ میڈیکل سائنس ہی کا فیضان ہے کہ آج سے ساٹھ ستر سال پہلے تک ڈلیوری کے دوران ماں اور بچے جو مر جایا کرتے تھے وہ اب نہیں مرتے۔ سروائول ریٹ حیران کن حد تک بڑھ چکا ہے۔ کیل گھسنے سے، چاقو یا چھری کے زخم سے لیکر ملیریا تک کتنے ہی ایسے بیکٹیریل انفیکشنز ہیں جو آج آپ ایک چھوٹا سا اینٹی بائیوٹیک کورس کرکے ختم کرسکتے ہیں۔ بیسویں صدی سے پہلے ان سب سے صرف موت ہی واقع ہوتی تھی۔

سرجری

ماڈرن میڈیسنز سے پہلے اگر جسم کے ساتھ کاٹ پیٹ کی ضرورت ہوتی تھی تو عموماً یا تو مریض تکلیف کے خوف سے آپریشن کی بجائے موت قبول کرتا۔ یا اگر آپریشن ہو بھی جاتا تو اوزاروں کے سیپسس (Sepsis) کی وجہ سے موت واقع ہوجاتی۔

ماڈرن میڈیسن نے پہلا کام تو سرجری کے درمیان سیپسس سے بچنے کے لیے جراثیم کش دوائیں بنائیں۔ اور ساتھ ہی جسم سُن کرنے اور تکلیف سے بچنے کا طریقہ جسے انیستھیزیا کہا جاتا ہے، اسے ڈویلپ کرکے انسانیت پر احسان کیا۔ یہ چیزیں جو آج روٹین کی باتیں ہیں ایک وقت میں ان سے موت واقع ہونا عام بات ہوتی تھی۔

یہ اور اس کے علاوہ سیکڑوں یا ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں ایسی خرابیوں اور بیماریوں کی پن پوائنٹ ٹریٹمنٹ وجود میں آئی جو دو سو سال پہلے صرف ایک خواب تھا۔

آیورویدا کے پانچ ہزار سال اور یونانی علاج کے ڈھائی ہزار سال کا مطالعہ کیجیے۔ آپ کے سامنے حق واضح ہو جائے گا کہ یہ ہزاروں سال پرانے علوم اپنے عروج کے وقت میں بھی طاعون کو پھیلنے اور اس سے ہونے والی لاکھوں اموات کو نہیں روک سکے جس سے اُس کم آبادی والے دور میں بھی لاکھوں اموات واقع ہوتی تھیں اور آج ماڈرن میڈیسن نے اس کا نام و نشان تک کرہ ارض سے مٹا کر رکھ دیا۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:   دماغی یکسوئی کیسے حاصل ہو؟

اتنی بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سائنس کی کنہہ کو سمجھیے۔ سائنس آپ کے من پسند جواب نہیں دے سکتی۔ سائنس صرف اتنا کہتی ہے جتنا کر کے دکھا سکتی ہے۔ اور جو کرکے دکھاتی ہے اس کا پورا ڈیٹا، پورے دستاویز، غیر جانب دارانہ شماریات سے لے کر ڈبل بلائنڈ سٹڈیز تک ہر ہر چیز لکھت میں موجود ہوتی ہے۔

تبصرہ شائع کریں

Open chat
Whatsapp Me
السلام علیکم۔
اگر آپ مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں تو مجھے واٹس ایپ بھی کر سکتے ہیں