صحت اور طب

سنا مکی اور کرونا وائرس – استعمال سے پہلے ضرور پڑھیں

میں نے اپنی ایک تحریر میں عرض کیا کہ خاندانی طور پر ہم یونانی اطبا کے مداحوں میں سے ہیں۔ تو سب سے پہلے تو آج بہت سے دوستوں کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ میں نے یونانی اطبا میں آنکھ کھولی اور اسی طریقۂ علاج کو اپنے آس پاس میں استعمال ہوتا پایا۔ اس پر تفصیلی بات پھر کبھی سہی۔

سنا مکی کے حوالے سے عرض کروں کہ اس کا استعمال عرب سے شروع ہوا۔ گیارھویں اور بارھویں صدی کے مسلمان یونانی طبیب اس پر تجربہ کرکے اس کے اثرات کو دیکھ چکے تھے۔

سنا کی دو قسمیں مشہور ہیں۔ پہلی تو عربی سنا جو سعودیہ عرب اور اس کے اُس پار مصر، اور سوڈان کی طرف اُگتی ہے۔

دوسری دیسی سنا جو انڈیا میں اگتی ہے۔

ماہرین کے نزدیک عربی سنا زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ اور اس عربی سنا کا سائنسی نام Senna alexandrina ہے۔

یونانی طب میں اس کے مختلف استعمالات بتائے جاتے ہیں۔

اس میں قبض، پیٹ کے کیڑے، مختلف جلد کے امراض اور اینٹی بائیوٹیک افعال شامل ہیں۔

اب آتے ہیں سائنس کی طرف۔

سائنس کے نزدیک سنا کے پتوں میں پائے جانے والے فعال کیمیکلز (Active Ingredients) صرف دو ہیں جنہیں سینوسائڈز (Sennosides) کہا جاتا ہے۔

یہ کیمیکلز کی ایک کلاس گلائکوسائڈز (Glycosides) سے تعلق رکھتے ہیں۔

رویند چینی (Rhubarb) کا نام شاید آپ نے سُن رکھا ہو۔ اس میں بھی یہی اور اس سے ملتے جلتے کیمیکلز پائے جاتے ہیں۔ سنا مکی کے مقابلے میں ریوند چینی چائنیز میڈیسن میں بہت پہلے سے اسی مقصد کے لیے استعمال ہوتی آئی ہے جس کے لیے ہمارے یہاں سنا مکی زیادہ مقبول ہے۔

متعدد سائنسی تحقیقات ان کیمیکلز پر ہوئی ہیں جن میں سنا کے پتے اور ان سے کشید کردہ کیمیکلز دونوں ہی کو استعمال کرکے چیک کیا گیا ہے۔ سنا میں پائے جانے والے کیمیکلز کا اصل کام بڑی آنت میں ہوتا ہے جیسا کہ زیادہ تر قبض کشا ادویات کا ہوتا ہے۔ البتہ اینتھراکوئینونز (Anthraquinones) معدے میں موجود اعصابی خلیوں پر بھی کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے معدے اور آنتوں کی حرکت میں اضافہ ہوتا ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ اتنی زیادہ طاقتور دوا ہے کہ اس سے پیدائشی اور دائمی قبض بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اگر آپ اسے بے احتیاطی یا بغیر قبض کی شکایت کے استعمال کریں تو جسم کا الیکٹرولائٹ بیلنس بگڑ جاتا ہے۔ یہ ڈی ہائڈریشن کے ذریعے آپ کو موت کے منہ تک لے جاسکتی ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:   حکمت، ہومیوپیتھی بمقابلہ ماڈرن سائنس

ہائیں!!!!

جی ہاں۔ یونانی حکماء آپ کو یہی بتائیں گے کہ قدرتی دواؤں کا کوئی سائڈ افیکٹ نہیں۔ (کیونکہ انہیں خود بھی اکثر سائڈ افیکٹس نہیں معلوم ہوتے)

آگے چلتے ہیں۔

مناسب مقدار میں سنا مکی کے لگاتار (یعنی دو ڈھائی ہفتے مسلسل) استعمال کے بعد چھوڑنے سے دائمی قبض ایک بہت بڑا سائڈ افیکٹ ہے جو آپ کو پیش آسکتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لگاتار استعمال سے بڑی آنت کی اندرونی دیوار پر سنا مکی میں پائے جانے والے کیمیکلز ایک تہہ چڑھا دیتے ہیں۔ میڈیسنز میں اسے melanosis کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ میں مناسب اور معتدل مقدار میں زیادہ عرصے استعمال کی بات کر رہا ہوں۔ اس بات کا مقصد یہ ہوا کہ مسلسل قبض رہنے کی وجہ سے یا تو آپ کو اب دوا مسلسل کھاتے رہنی پڑے گی یا پھر بہت مشکل اور تکلیف اٹھانے کے بعد آپ دوبارہ روٹین میں آئیں گے۔ ساتھ ہی بواسیر کی شکایت ہونا بدیہی سی بات ہے۔

سنا مکی کا زیادہ سے زیادہ استعمال یہ ہوسکتا ہےکہ اگر آپ کو مسلسل قبض کی شکایت ہے تو اسے وقتی آرام کے لیے قہوے کی صورت میں استعمال کر سکتے ہیں۔ قہوے میں پتوں کی زیادہ سے زیادہ مقدار بارہ سے پندرہ گرام ایک دن میں لی جاسکتی ہے۔ ویسے زیادہ بہتر یہی ہے کہ قبض کے لیے اسپاغول یا پھر فائبر والے پھلوں کا استعمال کریں۔ کیونکہ سنا مکی میں موجود کیمیکل معدے کے اعصابی خلیوں (Nerve Plexus) پر ایکٹ کرتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ایسی دوائیں بغیر کسی میڈیکل پروفیشنل کے مشورے کے استعمال نہ کی جائیں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:   بٹ کوائن، کرپٹو کرنسی کیا ہے؟ کیا یہ آپ کو خریدنا چاہیے؟

کچھ تحقیقات کے مطابق سنا مکی میں معمولی اینٹی بائیوٹیک فنکشن بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن کسی بھی بیکٹیریل انفیکشن میں یہ دوا کارگر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ فنکشن بہت معمولی سا ہے۔

قوتِ مدافعت پر آجائیں تو وضاحت کردوں کہ جسم میں موجود واٹر کنٹینٹ قوتِ مدافعت بحال رکھنے کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے۔ سننے میں شاید عجیب بات یہ ہے کہ جسم سے باہر جراثیم اور دیگر بیکٹیریا کی نشو و نما کے لیے پانی ضروری اور اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے سیل، اور گیلی جگہوں پر جراثیم، کائی اور دیگر بیکٹیریا با آسانی جنم لیتے ہیں اور پھلتے پھولتے ہیں۔ لیکن جسم کے اندر جراثیم اور دیگر بیکٹیریل انفیکشنز کی روک تھام کرنے کے لیے بھی پانی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کرونا کے حوالے سے سنا مکی کا استعمال ظاہر ہے نہ تو کسی تحقیق کے مطابق ثابت ہوتا ہے نہ اس میں ایسے کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں جو کسی بھی قسم کا اثر قوتِ مدافعت پر رکھتے ہوں۔ اب ایسے ماحول میں جب قوتِ مدافعت کی آپ کو بہت زیادہ ضرورت ہو، تو اس طریقے کی چیزیں جو آپ کے جسم سے پانی کو خارج کر رہی ہوں، یا ڈی ہائڈریشن کا سبب بن رہی ہوں، استعمال کرنے سے آپ کو نقصان تو ہو سکتا ہے، فائدہ ہونے کا احتمال ہرگز نہیں ہے۔ اور جب پانی کی کمی ہوگی تو قوتِ مدافعت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ دوسری بیماریاں بھی آپ کو باآسانی جکڑ میں لے لیتی ہیں۔

حکما نے پہلے تو کوئی ریاضی دان (نذیر احمد) صاحب کی غیر معتبر وڈیو کی بنیاد پر سنا مکی کی بھرپور مشہوری کرنا شروع کی۔ اس پر سوشل میڈیا پر افادہ عام کے لیے نسخے شئیر کرنا شروع کیے۔ عوام کے جہالت سے بھر پور بھیڑ چال والے رویے کی بنیاد پر سنا مکی کی قیمتوں میں سیکڑوں فیصد کا اضافہ ہوگیا۔ اور اب چونکہ بہت سے لوگوں کو دست لگنے کی شکایتیں موصول ہونا شروع ہوگئی ہیں، پیٹ خراب ہو کر طبیعت بگڑ رہی ہے تو “دوسرا ہاتھ” لگایا جارہا ہے کہ ہر دوا مزاج کے مطابق تجویز کی جاتی ہے۔ اس لیے ماہر معالج سے رابطہ کریں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:   وڈیو نمبر 3 : فاریکس ٹریڈنگ میں نقصان سے بچیں

بہرحال۔ میں مسلسل کہتا رہا ہوں کہ ایسی وڈیوز، ایسے واٹس ایپ میسیجز، ایسے فارورڈڈ وائس نوٹس جن میں ذاتی تجربہ شئیر کیا جارہا ہو، کسی بھی درجے میں معتبر نہیں ہوتے۔ اور اس کا تجربہ سنا مکی کے قہوے پینے والے بہت فراخ دلی سے کرچکے ہیں۔

اب بھی اس مضمون پر کافی تبصرے آئیں گے کہ مجھے کرونا تھا جو سنا مکی کا قہوہ پینے سے دو تین دن میں رفو چکر ہوگیا۔ تو عرض یہی ہے کہ اگر آپ سنا مکی کا استعمال نہ بھی کرتے تو بھی اسے ٹھیک ہو جانا تھا۔ کیونکہ نوے فیصد لوگوں کو ابتدائی دنوں میں کچھ علامات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ بغیر کسی دوا کے خود ہی صحتیاب ہوجاتے ہیں۔ اس میں سنا مکی کا یا کسی بھی قسم کی دوا کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

میڈیکل سائنس میں اور متبادل طریقوں میں بس یہی ایک فرق ہے کہ سائنس تحقیق کی آخری بساط کے بعد جو صحیح ترین طریقہ ممکن ہوتا ہے اسے جاری کرتی ہے۔ سائنس کے نزدیک ذاتی تجربہ، کسی ایک یا دو لوگوں ، حکیموں، حتی کہ ڈاکٹروں کا قول یا عمل بھی حجت نہیں ہے جب تک کہ مکمل ڈیٹا موجود نہ ہو اور اُس کی غیر جانب دارانہ و انڈیپینڈینٹ ویریفیکیشن نہ ہو جائے۔

-مزمل شیخ بسملؔ

تبصرہ شائع کریں

Open chat
Whatsapp Me
السلام علیکم۔
اگر آپ مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں تو مجھے واٹس ایپ بھی کر سکتے ہیں